غریب کے لئے ان کا گھر آجکل جہنم سے کم نہیں
Poet: hasanpurki By: m.hassan, karachiغریب کے لئے ان کا گھر آجکل جہنم سے کم نہیں
قبر اور دوزخ انکے لئے کسی جنت سے کم نہیں
میری دعا ہے کسی شریف کو بد زبان بیوی کبھی نہ ملے
کیونکہ زبان درز بیوی کسی آفت سے کم نہیں
یوں گھر میں مفت کی روٹیاں توڑ کر لڑکتا رہتا ہے
ایسے ناکارہ شوہر کسی فٹ بال سے کم نہیں
ایسے اولاد سے تو بہتر ہے یونہی رہے بے اولاد
نافرماں آوارہ بچے کسی لعنت سے کم نہیں
غریب ملک میں پیدا ہونا بھی ایک جرم ہے
کوئی بھی سنگین جرم غربت سے کم نہیں
کوشش کرکے بدل ڈالو اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کو
اب عوام ہی بدل دیں شاید کیونکہ لیڈروں میں دم نہیں
چاروں موسم،سمندر،دریا،پہاڑ،جنگل اور صحرا
سب کچھ یہاں موجود ہے جو کسی نعمت سے کم نہیں
پاکستان کے عوام مخلص،وفادار اور ہیں جفاکش
لیکن افسوس یہاں کے لیڈر کسی چیٹر سے کم نہیں
٦٥ سالوں سے چند لٹیرے ہم پر سوار ہیں پارٹی بدل بدل کے
پہچان لو اب انھیں جو کسی گرگٹ سے کم نہیں
پورا ملک لوٹ کر کھایا ہے پھر بھی پیٹ بھرا نہیں
مت آو اب ان کی باتوں میں جو چھچھوندر سے کم نہیں
غنڈے،بھتہ خور اور بدمعاش سب ملکرکر رہے ہیں ہم پر راج
آو ایک ہو جاو اور ان کو بتاو کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں
ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف لاکھوں بے روزگار لوگ
اس پر آبادی کا بم جو کسی ایٹم بم سے کم نہیں
یہاں ہر روز کسی کا خون بہتا ہے اور کسی کا گھر جلتا ہے
ایسے ہی حالات رہے تو یہ ملک کسی کھنڈر سے کم نہیں
اسکولز،کالج اور یونیورسٹیز کا کہیں نام و نشان نہیں
پھر بھی میں کیسے سمجھوں کہ میرا مستقبل کسی سے کم نہیں
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






