غزل کہتی ہوئی ۔۔۔۔۔۔آنکھیں

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

ہیں تخیل کی ہمسفر آنکھیں
غزل کہتی ہوئی مدھر آنکھیں

دے کے احاساس کو حسیں منظر
لے گئی ہیں تمام ڈر آنکھیں

ایک نکتہ ہے روبرو لیکن
دیکھتی ہیں ادھر ادھر آنکھیں

صرف آہٹ ہی سنی تھی دل نے
دیکھ اب بھی ہیں بام پر آنکھیں

ہے لطافت سی لطافت توبہ
روح میں سے گئیں گزر آنکھیں

ایک جنبش سی ہوئی مژگاں کی
کر گئیں وقت کا سفر آنکھیں

مجھ پہ کب کی ہے دسترس اسکی
جانے کس کی ہیں منتظر آنکھیں

آس سے پھول سے کھلاتی ہوئی
تیرگی میں نئی سحر آنکھیں

عشق کو ایک بار سوچا تھا
رہی سجدے میں عمر بھر آنکھیں

دھڑکنیں پوچھ کر چلیں ان سے
ہو گیئں اتنی معتبر آنکھیں

روبرو آئینے کے مت جانا
عکس پر جائیں گی ٹھہر آنکھیں

پھر زمانے میں بچے گا ہی کیا؟
پھیر لی آپ نے اگر آنکھیں

Rate it:
Views: 1249
24 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL