غم جسکی عنایت ھو اس الفت کا کیا کرنا
Poet: Ruqayyah Maalik By: Ruqayyah Maalik, Lahoreغم جسکی عنایت ھو اس الفت کا کیا کرنا
جو حسرت ھو ہی لا حاصل اس حسرت کا کیا کرنا
تف اس پر کہ جو اپنی جوانی بیچ کر بولے
خواہش جب نہ ھو پوری تو پھر چاھت کا کیا کرنا
اس کو یاد کرنے کی بھلے عادت پرانی ھے
جو عادت ھی نہیں اچھی تو اس عادت کا کیا کرنا
یہ کیا روز ان کا خوابوں میں آ کے دل کو بہلانا
فقط نظروں کا دھوکہ ھو جو اس قربت کا کیا کرنا
سنا ھے ہڈ حراموں سے کہ ہم بیمار رھتے ھیں
جب فارغ ھی رہنا ھو تو پھر صحت کا کیا کرنا
مجھے وہ روک کر کہتے ہیں کچھ تو پی کے جانا اب
بھلا جو ھوش میں رکھے اس شربت کا کیا کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






