غمِ فراق کا ڈر تلملائے ہیں کیا کیا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

غمِ فراق کا ڈر تلملائے ہیں کیا کیا
بدن میں آگ کسی کی لگائے ہیں کیا کیا

چھپی وفا کو چلو ہم بیان کر ڈالیں
نہیں ہے درد مجھے کچھ چھپائے ہیں کیا کیا

کہ وقت دور بہت کل نکل گیا ہوگا
یوں ہی ستاؤں اگر ہاتھ آئے ہیں کیا کیا

جو میری آنکھوں میں جھانکا ہے غور سے تم نے
بتا تو میری وفا ؤں کو بھائے ہیں کیا کیا

ذرا وہ چاند تو دیکھو کہ گھٹ گیا کتنا
جو حسن آج ہے اک روز ڈھائے ہیں کیا کیا

نظام نو میں وہی ٹھوکریں ہیں اس کا نصیب
زمانہ چال قیامت کی لائے ہیں کیا کیا

مزے سے کیا کوئی آگاہ ہو محبت کو
نہ جب تلک کہ ہو دل آشنائے ہیں کیا کیا

چھپائے دل میں مگر میں نے غم کے دریا ہیں
عجب نہیں کہ یہ نکلے صدا کہ ہائے ہیں کیا کیا

چمن نہیں ہیں مری زندگی میں صحرا ہیں
کہ بڑھ رہے ہیں جدائی کے سائے ہیں کیا کیا

گھمنڈ اس کا تو وشمہ اگرچہ ٹوٹ گیا
کسی کے ساتھ ترا نام آئے ہیں کیا کیا

Rate it:
Views: 443
09 Dec, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL