غُبار وقت

Poet: Pervaiz Altaf Kiyani By: Ghualm Mujtaba Kiyani, Lahore

دل لگا کر کسی بیگانے سے
ہو گئے دُور وہ دیوانے سے

اجنبی جن کو لگا محفل میں
لوگ وہ بھی تو تھے انجانے میں

دیکھئے آکے چمن میں پل بھر
کھلتے ہیں پھول تیرے آنے سے

کیا ہے اس دل کا بہل جائے گا
تیرے ہنسنے ہنسانے سے

دوستوں سے میں یہی کہتا ہوں
دوستی بڑھتی ہے بڑھانے سے

گزرا لمحہ تو نہیں ،آ نہ سکوں
پاس تیرے، تیرے بلوانے سے

بِنا تیرے میں پگھل جاؤں گی
شمع یہ کہتی تھی پروانے سے

دکھ ہے بھر آج ملایا اس نے
ہاتھ پہنے ہوئے دستانے سے

پاس جب آیا میرے جانِ بہار
ایک خوشبو اٹھی کاشانے سے

ہے خبر کس لیے ہر بار مجھے
تھی مشکل خواب کے بتلانے سے

کوئی اور بھی ہے پس منظر میں؟
کون چھپ سکتا ہے زمانے سے

وہ جو نکلے گا کہاں جائے گا
اپنی اس زیست کے افسانے سے

اک خوشی تو ہے مجھے بھی پرویز
وہ بہل جاتا ہے بہلانے سے

Rate it:
Views: 515
11 Nov, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL