فروری کی دھند
Poet: Ahber Chishti By: Ghulam Muhy ud din, Lahoreدھند میں لپٹی دنیا میری
آگ لگی ہے سینے میں
میں اِحساس کی ذد میں پاگل
دِل میں نیر بہاتا جائوں
کون کہانی لِکھ کے گیا ہے
میرے لیکھ مُقدر کی
اُلجھا بِکھرا اور ادھور
دو شاخہ سا جیون ہے
تیرا ہو کہ تُجھ سے بِچھڑا
کِس کا ظلم و عداوت ہے
جِتنے ظالم اُتنے دلکش
واہ کیا خوب سخاوت ہے
دُھند میں لِپٹی دُنیا میری
میں روگی میں پیار کا جوگی
میں انجان فقیر میں راہی
میں پردیسی اپنے گھر میں
میں آذادی کا متوالہ
میں آوارہ میں نا کارہ
میں ہوں کیا۔۔۔؟
یہ میں نا جانوں
میں ہوں عہبر خود سے پرایا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






