قاتل ادا
Poet: By: M.BABER ZAMAN, Sahiwalاس ادا سے بھی بوں میں آشنا
تجھے جس پہ اتنا غرور ہے
میں جیوں گا تیرے بغیر بھی
مجھے زندگی کا شعور ہے
نہ ہوس ہے مجھ میں جناب کی
نہ طلب صبا و صحاب کی
تیرے چشم ناز کی خیر ہو
مجھے بن پیئے بھی سرور ہے
جو سمجھ لوں تجھ کو میں بیوفا
تو اس میں تیری ہے کیا خطا؟
یہ خلل ہے میرے دماغ کا
یہ میری نظر کا قصور ہے
میں نکل کے بھی تیرے نام سے
نہ گروں گا اپنے مقام سے
میں قتیل ستم ہی سہی
مجھے تجھ سے عشق ضرور ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






