مرے دشمنوں کی نہ بات کر مجھے دوستوں کی تلاش ہے
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah poetry, sargodhaمرے دشمنوں کی نہ بات کر مجھے دوستوں کی تلاش ہے
وہ جو راستے ہیں وفاؤں کے اُنہیں راستوں کی تلاش ہے
مجھے نفرتوں کے عذاب سے کوئی ہو جو آ کے بچا سکے
جو دل سے روح میں سما سکیں اُنہیں چاہتوں کی تلاش ہے
میں یہ چاہتا ہی نہیں مجھے وہی لوگ پھر سے ملیں کہیں
پس ِآرزو جو گزر گئیں اُنہیں ساعتوں کی تلاش ہے
جو ملوں تو مجھے جدا نہ ہو جو بچھڑ چلوں تو ہو منتظر
مجھے چاہتوں میں یوں ہر گھڑی اِنہی شدتوں کی تلاش ہے
میں بھٹک رہا ہوں خواہشوں کے سراب میں کہیں جا بجا
جو مرے گناہوں کو دھو سکیں اُنہیں واسطوں کی تلاش ہے
بھلا کون ہو مرا ہم سفر مرے ساتھ کوئی چلے تو کیا
مجھے رستوں میں ذرا ذرا سے ہی آسروں کی تلاش ہے
ہے عجیب میرا بھی فلسفہ مجھے محفلوں سے بھی دُور عقیل
کہیں جنگلوں کی ہے جستجو کہیں وحشتوں کی تلاش ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






