قلم کو باب تمنا پہ دھر کے دیکھتے ہیں
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورقلم کو بابِ تمنا پہ دَھر کے دیکھتے ہیں
خُمِ فراز سے اِک جام بھر کے دیکھتے ہیں
سفر کے تاروں نے کیا کُوچ کا بتانا تھا
کہ وُہ تو پیروں کو رَشکِ قمر کے دیکھتے ہیں
ہنر ملا ہے جنہیں شاعری کا ، اُن کا نصیب
کہ ہم تو معجزے خونِ جگر کے دیکھتے ہیں
ہر ایک ذات میں اُس کی کوئی نشانی ہے
کرشمے حُسن میں رَب کے ہُنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس نے یوں اَنگڑائی لی کہ حسرت سے
پری جمال ، کمال اِک بشر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب وُہ کبھی نچلا لب چباتے ہیں
تو پھول پنکھڑی کو دُہرا کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے کروٹیں گنتا ہے چاند ، راتوں کو
کئی ستارے تو چھت پر اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چال پہ ہے آنکھ ، راج ہنسوں کی
غزال کُوچۂ جاں سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بوند جو پانی کی لب کو چھُو کے گری
شراب خانے اُسے آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رُوپ کا دَرپن ہے رَقص کرتا کنول
حسین غنچے اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے عید کا چاند اُن کی راہ تکتا ہے
خوشی کے دیپ ، قدم خوش نظر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بادَلوں پہ جب وُہ پاؤں دَھرتے ہیں
تو اَبر کو تو سمندر بپھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بس سے ہو باہر اَگر مسیحا کے
تو خاک قدموں کی تجویز کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے زینہ اُترتا ہے یوں وُہ مست غزال
کہ حرف چٹکلے زِیر و زَبر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ایک تو چوری کی اِملی کھاتے ہیں
زَباں پہ لیموں کی پھر بوند دَھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینے سے خاصے بے تَکلُفّ ہیں
سو ہم بھی دُوسری جانب اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے فاختہ کے با اَدب ترانے پر
شجر رُکوع میں بھی دَم خم کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جگنو کوئی زُلف میں رہا شب بھر
ستارے نخرے اَب اُس مفت بر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مورنی شاگردِ خاص ہے اُن کی
سو مور رَقص اُسی مست گر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جان کنی مشغلہ ہے ملکہ کا
اِسی بہانے ملاقات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دُھوپ میں بارِش ہے زُلف چہرے پر
خوشی سے اَبر اُسے ہر نگر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جل پری ، جلتی ہے اُن کے پیروں سے
گڑھے کو گالوں کے چکر بھنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب کبھی آزادۂ قبا ہو نگار
نظر جھکا کے قبا ، دیپ گھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے نُور کا ہالہ ہے بانکی نار پہ یوں
کہ دید خواہ تو بس اُس کو مر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چُوڑیوں سے دِل کے تار بجتے ہیں
سنا ہے گھنگھرو کو نغمے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
حیا کی برق دَرخشاں ہے شوخ آنکھوں میں
جواہرات کرشمے گہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے مندروں میں اِس لیے نہیں جاتے
کہ بُت بھی سجدے ، مہا بُت کو کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دِیویاں اُس کی کنیزِ اَدنیٰ ہیں
خزینے پاؤں تلے خشک و تر کے دیکھتے ہیں
بتوں کا واسطہ دے کر پجاری پہنچے ہُوئے
غبارِ راہ سے دامن کو بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے شوخ ، خوشی سے جو کھلکھلا اُٹھے
طلائی جھرنے ہنسی کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کلی پہ بیٹھی کسی تتلی پر جھکا ہے کوئی
اُجالے جلوے کسی بے خبر کے دیکھتے ہیں
پکار اُٹھتے ہیں یہ نقل ہے حنا کی مری
جو نقش غور سے تتلی کے پر کے دیکھتے ہیں
بدن کی چاندنی کو دُھوپ جب لگاتے ہیں
قمر مریخ کے ، ہالے کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے خوشبو کے تالاب میں نہا دھو کر
نسیمِ صبح کو تن زیب کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے خواب اُنہیں اِس لئے نہیں آتے
کہ خواب سب ہی کسی اَعلیٰ تر کے دیکھتے ہیں
جو خواب دیکھتے بھی ہیں تو صرف شیش مَحَل
سو خود بھی جلوے رُخِ فتنہ گر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے خوشبو کی بارِش ہے گُل بدن کا وُجود
گلاب راستے خوشبو کے گھر کے دیکھتے ہیں
لب اِتنے میٹھے کہ اَنگور اُن کو کھٹا کہیں
وُہ جب شراب کا اِک گھونٹ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے شہد کی بوندوں کے چند پروانے
گلاس پر لگی سرخی پہ مر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چاندنی سے وُہ حنا لگاتے ہیں
کلی چٹکنے کو پازیب کر کے دیکھتے ہیں
جو اُس کی ظاہری معصومیت پہ واریں دِل
تمام عمر ، ضرر ، بے ضرر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے غنچے کو بوسہ دِیا ہے خوش لب نے
تو ہم بھی وعدے سے اَپنے مکر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بوسے سے یہ کہہ کے جاں چھڑاتے ہیں
نہیں نہیں اَبھی سب پھول گھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے سامری بعد اَز ہزار جل تو جلال
طلائی بچھڑے کا دِل دان کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ہاتھ پہ جب تتلی وُہ بٹھاتے ہیں
عُقاب اَپنی قبائیں کُتر کے دیکھتے ہیں
حجاب زادی پہ خوشبو کا نُور اُترتا ہے
حریمِ حُسن ستارے سَحَر کے دیکھتے ہیں
وُہ جس پہ مرتا ہے آخر وُہ چیز کیا ہو گا
ہم اُس کے دِل میں کسی دِن اُتر کے دیکھتے ہیں
وُہ خواب ہے کہ فُسوں ، جن ، پری کہ جانِ جُنوں
سب اُس کے حُسن کو تھوڑا سا ڈَر کے دیکھتے ہیں
جلالِ حُسن پہ حیرت سے دَنگ اِہلِ سُخن
قلم زَمین پہ اِہلِ نظر کے دیکھتے ہیں
ہمیشہ زُعم سے اُس پر غزل شروع کی قیس !
ہمیشہ بے بسی پہ ختم کر کے دیکھتے ہیں
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






