قمر پیوستہ ہوی
Poet: سید hammad razaنقوی By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadتمام عمر ہم نے دل کو خیمہ زن کیا
ادھر اکاڑا تو ادھر گاڑھ دیا
ظالم تھا بہت جزوئے کلب میرا
ادھر سنوارا تو ادھر بگاڑ دیا
قمر پیوستہ ہوئی تونظر زمیں میں گڑھی
ہائے عمر عزیز لٹ گئے موت نے آ خبردار کیا
بجھتے ہوے چراغوں کو جو دیکھا خون جلنے لگا
بلآخر دن کے اجالے کو شام کے آنچل نے گرفتار کیا
اڑتی ہوئی ریت کو جو دیکھا دریا کے شکم مے
میری عقل وصل نے دل مضتر کو بہت ہوشیار کیا
کل جس کے دامن مے تھے راستے حیات کے رضا
آج اسی پانی نے سانس لینا بھی دشوار کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






