لازمی ہوں گے
Poet: حافظ محمد مدثر By: Muhammad Muddasir , Karachiشمع گر ہے یہاں تو پھر پروانے لازمی ہوں گے
پریتم میں یہ چارداںگ فسانے لازمی ہوں گے
یہاں پینا منع ہے تو کیوں غم ہو نہیں پیتے
وہاں بھی تو یہ ساقی و میخانے لازمی ہوں گے
مرے اشعار میں شعار کہاں ہیں درد سر یک سر
مرے رفیق رفاقت میں نبھانے لازمی ہوں گے
دعائے بد لگی ہم کو گلوں کلیوں رقیبوں کی
تری چاہت لگانے پہ جرمانے لازمی ہوں گے
کہوں کس سے کیا ہے ماجرا میرا کیا دکھ ہے
چلو حافظ دمے آخر خزانے لازمی ہوں گے
More Love / Romantic Poetry






