لاکھ اُلجھ جائیں راہیں ، میری منزل چھپا نہیں سکتیں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaلاکھ اُلجھ جائیں راہیں ، میری منزل چھپا نہیں سکتیں
شمع اُمیدوں کی میری یہ ہوائیں بجھا نہیں سکتیں
خدا سنگ ، وفا سنگ ، مَیں ڈروں کیوں دشواریوں سے
تمام مشکلیں مجھے ترکِ تعلق پے منا نہیں سکتیں
میری رہبری کر رہیں ہیں دعائیں یار کی ہر دم
مَیں ہوں مومنِ عشق دشواریاں کافر بنا نہیں سکتیں
جہانِ دل میں بیٹھے ہیں جگہ جگہ وفا کے پہریدار
جفائیں چھُپ چھُپ کے بھی یہاں آ نہیں سکتیں
نہالؔ آگیا ہے پسند اِک پرستان کی پَری کو
انسان تو سہی مگر کیا پَریاں عشق بچا نہیں سکتیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






