اگر ترا یونہی چاہنے کا سلسلہ رہا مسلسل
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاگر ترا یونہی چاہنے کا سلسلہ رہا مسلسل
تری قسم تری الفت میں ہوؤنگا پاگل
احسان ہیں ترے تری وفاؤں کی مہربانیاں ہیں
سکون بے قراریوں کو جو ہوا ہے حاصل
مسکراہٹوں کے سنگ مجھے رُخصت وہ کرنے لگی
ہونٹ کہتے رہے الوداع ، مجھے روکتا رہا کاجل
کیسے نہ کروں ناز مَیں تری محبت پہ
گلشن میں بدل دیا تُونے وحشتوں کا جنگل
دن و ماہ و سال میں آئیں کیا خوب تبدیلیاں
تری قربتوں میں رہ کر سنورتا گیا پل پل
ترے ہاتھوں میں ہے میری قسمتوں کی دوڑ
ترے قدموں سے ہوتا ہے خوشیوں میں رد و بدل
تری ذات ہے کومل میرا وجود تھا پتھر
ترے چھُونے سے ہوا پل میں نہالؔ کومل
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






