لبوں سے میرا نام ہٹا کر جانا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroona abadاس کی بانہوں میں
مجھ سے کی گئی
محبت کے سارے
پل بھلا کر جانا
اپنی نگاہوں سے میرا
عکس دھندلا کر جانا
اپنے لمس سے میری
خوشبو ہوا میں ملا کر جانا
لبوں سے میرا نام ہٹا کر جانا
میرے جذبوں سے اپنا
دامن چھڑا کر جانا
تڑپتی محبت سے خود
کو بچا کر جانا
وحشی وصل کے ہر لمحات
کو ہجر کا گھر دکھا کر جانا
جی لوں گی تیرے بنا
مشکل سے
پر تم میری زندگی لٹا کر جانا
کجھ سامان ہے میرا
تمارے پاس
بےباک لمحوں کی شکل میں
میرا سامان میرے ہاتھ تھا کر جانا
فصل گل ہے آج کی رات
اجنبی مجھے مجھ سے آشنا کر جانا
کتنی پاگل دیوانی ہوں
ریت پر بنا ڈالا محبت کا گھر
میرے گھر کی دیواروں کو ہلا کر جانا
اتنا مت کھونا اس کے
وصل میں
میرے زخموں پر مرحم لگا کر جانا
میں تجھے تقسیم نہیں کرنا چاہتی
میری قسمت سے تقسیم مٹا کر جانا
خود کو میرے ساتھ جمع کر جانا
میرے اس نامحرم رشتے کو
اپنے نام کی عزت سے حیا کر جانا
میں حساس جذبوں
کی لڑکی نہیں سہہ سکتی
تیرا اس سے ملنا
مجھے اب کی بار پتھر بنا کر جانا
خود کو بے وفا کر جانا
یا
مجھے رسوا کر جانا
خفا ہو جاؤں گی میں
تجھ سے اس لیے
روٹھنے سے پہلے منا کر جانا
سو نا سکوں گی
میں آج کی رات
آحسان کرنا
مجھے سلا کر جانا
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






