لطف ہے ستانے میں
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiلطف ہے ستانے میں
آپ کو جلانے میں
رابطے ضروری ہیں
زندگی بنانے میں
چاند توڑلا ئیں ہم
آپ کو منانے میں
آپ ہیں بڑے اچھے
بے رخی دکھانے میں
موت تو ہوئی لازم
سچ کو اب سنانے میں
آپ کی ضرورت ہے
زندگی بیتانے میں
زندگی گزرتی ہے
زندگی بھلانے میں
جان بھی لٹا دیں گے
دین کو بچانے میں
رنجشیں مقابل ہیں
گھر کو لوٹ جانے میں
ٍ
خون ِ دل بہاتے ہیں
اک غزل بنانے میں
خود سے نہیں ملتے
یاد ِ جاں بھلانے میں
زن بہت ضروری ہے
گھر کو گھر بنانے میں
زندگی گزرجاوے
حال ِ دل سنانے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






