تری رحمتیں بے شمار ہیں تری نعمتیں بے شمار ہیں

Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachi

تری رحمتیں بے شمار ہیں تری نعمتیں بے شمار ہیں
مری لرزشوں پہ نوازشیں تری الفتیں بے شمار ہیں

یہ زمیں فلک یہ جہان کل تری دسترس میں ہے ہر گھڑی
تری عظمتیں بے شمار ہیں تری قدرتیں بے شمار ہیں

مجھے کیا پتہ مری حاجتیں مری حاجتوں کی خبر تجھے
تو ہی پالتا ہے جہان کو تری بخششیں بے شمار ہیں

وہ جو ہے نہاں مری آنکھ سےترے روبرو وہ ہے کل عیاں
تو کبیر ہے تو بصیر ہے تری عظمتیں بے شمار ہیں

جو گزر گیا، جو ہے آئے گا وہ تمام تو ہی ہےجانتا
تو علیم ہے تو خبیر ہے تری قدرتیں بے شمار ہیں

تری عظمتوں کا شمارکیا تو ہی خالق ِ دو جہان ہے
تو جلیل ہے تو حمید ہے تری مدحتیں بے شمار ہیں

تو ہی خاک کو کرے زندگی ، تو ہی زندگی کو فنا کرے
تری دسترس میں ہے کیا نہیں تری طاقتیں بے شمار ہیں

نہ سمجھ سکےیہ جہان کچھ نہ خیال میں کبھی آ سکیں
یہ جو قسمتوں کے ہیں فیصلے تری حکمتیں بےشمار ہیں

جو کروں سدا میں بیاں مگرنہ ہی ابتدا ذرا ہو سکے
بھلا کس زباں سے بیاں ہوئیں تری رحمتیں بے شمار ہیں

ترے نام سے ہے سکون ِ دل ترے نام سے ہی شاد ہوں
میں نوازشوں سے نہال ہوں تر ی نعمتیں بے شمار ہیں

نہ بیان میں کبھی آسکیں ترے مصطفےﷺ کی حقیقتیں
تری ان ﷺسے جو ہیں محبتیں تری چاہتیں بے شمار ہیں

Rate it:
Views: 555
20 Mar, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL