تری رحمتیں بے شمار ہیں تری نعمتیں بے شمار ہیں
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiتری رحمتیں بے شمار ہیں تری نعمتیں بے شمار ہیں
مری لرزشوں پہ نوازشیں تری الفتیں بے شمار ہیں
یہ زمیں فلک یہ جہان کل تری دسترس میں ہے ہر گھڑی
تری عظمتیں بے شمار ہیں تری قدرتیں بے شمار ہیں
مجھے کیا پتہ مری حاجتیں مری حاجتوں کی خبر تجھے
تو ہی پالتا ہے جہان کو تری بخششیں بے شمار ہیں
وہ جو ہے نہاں مری آنکھ سےترے روبرو وہ ہے کل عیاں
تو کبیر ہے تو بصیر ہے تری عظمتیں بے شمار ہیں
جو گزر گیا، جو ہے آئے گا وہ تمام تو ہی ہےجانتا
تو علیم ہے تو خبیر ہے تری قدرتیں بے شمار ہیں
تری عظمتوں کا شمارکیا تو ہی خالق ِ دو جہان ہے
تو جلیل ہے تو حمید ہے تری مدحتیں بے شمار ہیں
تو ہی خاک کو کرے زندگی ، تو ہی زندگی کو فنا کرے
تری دسترس میں ہے کیا نہیں تری طاقتیں بے شمار ہیں
نہ سمجھ سکےیہ جہان کچھ نہ خیال میں کبھی آ سکیں
یہ جو قسمتوں کے ہیں فیصلے تری حکمتیں بےشمار ہیں
جو کروں سدا میں بیاں مگرنہ ہی ابتدا ذرا ہو سکے
بھلا کس زباں سے بیاں ہوئیں تری رحمتیں بے شمار ہیں
ترے نام سے ہے سکون ِ دل ترے نام سے ہی شاد ہوں
میں نوازشوں سے نہال ہوں تر ی نعمتیں بے شمار ہیں
نہ بیان میں کبھی آسکیں ترے مصطفےﷺ کی حقیقتیں
تری ان ﷺسے جو ہیں محبتیں تری چاہتیں بے شمار ہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






