لفظ نہیں یہ لہو ہے میرا
Poet: rizwana By: rizwana, torontoاشک سب سے چھپاتے رہے
دریا درد کے بہاتے رہے
بھرم انا کا بنا رہے
بزم میں بس مسکراتے رہے
دیے تھے زحم جس ظالم نے
روداد غم اسی کو سناتے رہے
تپش عشق کیا معلوم تجھے
بس جلتے رہے جلاتے رہے
مسیحا کوی مل جاے کہیں
ہم صدائیں یہی لگاتے رہے
ٹوٹنے لگے آس کے تارے سبھی
جھوٹی آشا سے جی بہلاتے رہے
کاش کوئ سمجھا دے انھیں
جہاں انھی کے لیے ہم بساتے رہے
تیر جگر کے پار لگا اب کے
نشانہ ستمگر بناتے رہے
آج کی شب ہے بھاری بہت
لگی آگ چار سو بجاھاتے رہے
وفاؤں کا حاصل ملا کیا ہمیں
تسلیاں دے کے خود کو سمجھاتے رہے
آفتاب نو لاے گا اجالا نیا
اندھیروں میں جگنو جلاتے رہے
قسم سے مرے ہیں کئ بار ہم
کھا کھا کے قسمیں بتاتے رہے
لفظ نہیں یہ لہو ہے میرا
یقیں بےوفا کو دلاتے رہے
بھیک میں ہی وفا دے دو ہمیں
تار تار دامن پھیلاتے رہے
بجلیاں نہ گرنے پائیں کہیں
آشیا اپنا بچاتے رہے
کرم کر دے مولا اب تو
گر کے سجدے میں گڑگڑاتے رہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






