لفظ نہیں یہ لہو ہے میرا

Poet: rizwana By: rizwana, toronto

اشک سب سے چھپاتے رہے
دریا درد کے بہاتے رہے

بھرم انا کا بنا رہے
بزم میں بس مسکراتے رہے

دیے تھے زحم جس ظالم نے
روداد غم اسی کو سناتے رہے

تپش عشق کیا معلوم تجھے
بس جلتے رہے جلاتے رہے

مسیحا کوی مل جاے کہیں
ہم صدائیں یہی لگاتے رہے

ٹوٹنے لگے آس کے تارے سبھی
جھوٹی آشا سے جی بہلاتے رہے

کاش کوئ سمجھا دے انھیں
جہاں انھی کے لیے ہم بساتے رہے

تیر جگر کے پار لگا اب کے
نشانہ ستمگر بناتے رہے

آج کی شب ہے بھاری بہت
لگی آگ چار سو بجاھاتے رہے

وفاؤں کا حاصل ملا کیا ہمیں
تسلیاں دے کے خود کو سمجھاتے رہے

آفتاب نو لاے گا اجالا نیا
اندھیروں میں جگنو جلاتے رہے

قسم سے مرے ہیں کئ بار ہم
کھا کھا کے قسمیں بتاتے رہے

لفظ نہیں یہ لہو ہے میرا
یقیں بےوفا کو دلاتے رہے

بھیک میں ہی وفا دے دو ہمیں
تار تار دامن پھیلاتے رہے

بجلیاں نہ گرنے پائیں کہیں
آشیا اپنا بچاتے رہے

کرم کر دے مولا اب تو
گر کے سجدے میں گڑگڑاتے رہے

Rate it:
Views: 582
01 May, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL