لمحات جو تحفے میں تمہیں پیش کئے ہیں۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپلکوں پہ تیری آس کے کچھ دیپ جلا کے
لو جا رہا ہوں آج میں لمحوں کو رلا کے
ٹھہرو میں گئے وقت سے ڈھونڈوں تیرا وجود
کچھ بھول سا رہا تھا میں آداب دعا کے
تم نے بھی تو جا کر کبھی مڑنا نہیں سیکھا
کچھ میرے ارد گرد بھی ہیں کوہ انا کے
ہر پھول پہ بکھری ہیں تمنا کی کرچیاں
یہ کون گیا باغ میں کچھ اشک بہا کے
کیا مجھ سے پوچھتے ہو جوانی کا خلاصہ
اک لمحہ گیا ہے کئی صدیوں کو بیتا کے
اے باد تیز وتند یہ ساحل کو بتا دو
میں آ رہا ہوں موج کے کچھ قرض چکا کے
وہ بے رخی وہ طنز وہ انداز تغافل
کیا کیا نہ ملا حسن کو ہمراز بنا کے
لمحات جو تحفے میں تمہیں پیش کئے ہیں
روؤ گے پھوٹ پھوٹ کے سینے سے لگا کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






