ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
تمنا کے حسیں موسم
ابھی کچھ یاد میں بھر لوں
ستاروں سے بھری شامیں
امنگوں سے بھری صبحیں
یہ جگنو کہکشاں تارے
سبھی گرویدہ تمہارے
انہیہ ہمراہ تو کر لوں
ابھی میں جھولیاں بھر لوں
نہیں ملنا تو نہ ملنا
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
تمہاری منزلیں ہیں اور
میرے راستے بے نام
نہیں تم سے کوئی شکوہ
نہ میری جاں شکایت ہے
حقیقت پھر حقیقت ہے
یہی رمز محبت ہے
تمنا کی حسیں یادیں
میرے ہمراہ رہنے دو
جہاں چاہو بھلے جانا
چلے جانا چلے جانا
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
کہ میری زندگانی کو
یہ موسم پیارا لگتا ہے
نہیں میرا یہاں کچھ بھی
سبھی تمہارا لگتا ہے
یہ مانا عارضی ہے سب
سراب و خود فریبی ہے
اسے چاہے بھلا دینا
نگاہوں سے مٹا دینا
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
ابھی کچھ تشنگی سی ہے
ابھی کچھ بے کلی سی ہے
ارادوں میں نہیں ہے دم
نشہ سا بے خودی سی ہے
نکل جائیں گے اس سے ہم
ملے گا وقت کا مرحم
سہیں گے ہجر کا موسم
یہ میرا بھی ارادہ ہے
میری اں میرا وعدہ ہے
مگر اے روح کے باسی
ابھی تک روح ہے پیاسی
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






