لوٹا نہیں ہوں اپنا میں کردار بیچ کر

Poet: احمد By: Ahmad sajjad, Multan

لوٹا نہیں ہوں اپنا میں کردار بیچ کر
آیا ہوں بیعتوں کو میں انکار بیچ کر

​مایوس اس قدر ہوا میداں میں ہار کر
جرنیل لوٹ آیا ہے تلوار بیچ کر

​کیا ہے قدر زبان کی یہ اُن سے جانیے
روٹی کما رہے ہیں جو گفتار بیچ کر

​اُس کو خبر ہی نہ تھی مکاں اس کا جل گیا
گھر کو پلٹ رہا تھا جو اخبار بیچ کر

​گھاٹے کا سودا کر لیا ہے جانتے نہیں
جو تاج لے کے آئے ہیں دستار بیچ کر

​ہم قافلے کی گرد کو تھامے کھڑے رہے
منزل پہ آ گئے ہیں وہ سالار بیچ کر

​فرصت کے لمحے تجھ پہ گنوائے ہیں کس لیے
پچھتا رہا ہوں اپنے میں اتوار بیچ کر

​بچوں کو دل کے ٹکڑے کھلاتے ہیں اصل میں
گھر کو چلا رہے ہیں جو اشعار بیچ کر

​پختہ عزم ہے پہنچیں گے منزل پہ لازمی
پیدل ہی چل پڑے ہیں جو رہوار بیچ کر
 

Rate it:
Views: 58
30 Mar, 2026
More General Poetry