لوگ کہتے ہیں یار حد کر دی

Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, sadiqabad

دیدۂ برق بار حد کر دی
صورتِ حسنِ یار حد کر دی

چل کے آۓ ہو خود مِرے گھر تک
ہاۓ جانِ بہار حد کر دی

سینکڑوں دل پھنسا کے رکھے ہیں
کاکُلِ پیچ دار حد کر دی

ایک لحظہ بھی نہ سکوں آیا
اے دلِ بے قرار حد کر دی

عقل و ہوش و خرد میں کھو بیٹھا
گردشِ چشمِ یار حد کر دی

اس کو لکھ کر ہماری قسمت میں
تُو نے پروردگار حد کر دی

اک جگہ دوستی ہے ٹھیک مگر
ایک، دو، تین، چار حد کر دی

مر گۓ پر نہ اٹھے رستے سے
اس قدر انتظار حد کر دی

میری تربت پہ آ کے کہتے ہیں
تُو نے اے جاں نثار حد کر دی

چین ہے دن کو نہ ہی راتوں کو
الجھنِ روزگار حد کر دی

ہر جگہ پر تِرا ہی چرچہ ہے
وامقِ نامدار حد کر دی

ہونٹ نازک ہیں سرخ عارض ہیں
خسروِ طرح دار حد کر دی

مجھ سے لوگوں کو تُو نے اے ظالم
کرتے کرتے شکار حد کر دی

کیا ہی اچھی غزل کہی ہے فہد
لوگ کہتے ہیں یار حد کر دی

Rate it:
Views: 1275
31 May, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL