لکھنا چاہتی ہوں تم پر بہت کچھ

Poet: Farah Ejaz By: Farah Ejaz, Karachi

لکھنا چاہتی ہوں
تم پر بہت کچھ
مگر قلم ساتھ نہیں دیتا
تم سے ملنے کے بہانے
ڈھونڈتی ہوں
مگر سو اندیشے راہ میں
دیوار بن جاتے ہیں
کبھی سوچتی ہوں
کہہ دوں سب کچھ
جو کچھ دل میں
چھپا رکھا ہے
ہر راز سے پردہ اُٹھا دوں
میں تم پر اپناآپ ظاہر کردوں
لیکن پھر یہ سوچ کر
خود کو روک لیتی ہوں
مل کر تشنگی بڑھ گئی تو
پھر کیا ہوگا
تو انجان بن کر ملا تو
دل ٹوٹے گا
ساتھ میں مان بھی
تجھ پر جو بہت ہے
وہ بھی خاک میں مل جائے گا
محبت پر انا غالب آجاتی ہے
ہمیں ہماری خودی بھی تو پیاری ہے
پھر سوچتی ہوں
کبھی اتفاقاً
تجھ سے سامنا ہوگیا تو
کیا ہوگا
کیا اجنبی بن جائینگے ہم
اور راہ بدل لینگے
یا نظروں سے پھر ایک دوجے کو
سیراب کرینگے
ہم تجھ سے کچھ نہ کہینگے
بس تجھے دیکھینگے
دل کو شاد کرینگے
تجھ سے سنینگے
کوئی گیت البیلا سا
اور پھر آگے بڑھ جائینگے
کیونکہ
ندی کے دوکنارے
ساتھ تو چلتے ہیں
کبھی ایک نہیں ہوتے
آسمان سے زمین کا ملا پھی تو
ممکن نہیں
پھر سوچتی ہوں
اچھا ہے
میں تم سے دور ہوں
من کی آنکھ سے تمہیں قریب دیکھوں
اور مورت بنا کر
من آنگن کے سنگھاسن پر بٹھالوں
چپ چاپ تمہیںچاہوں
اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
سوچتی ہوں فقط اتنا ہی
کیا تم بھی ایسا ہی سوچتے ہوگے
کیا کچھ میرے لئے بھی لکھا ہوگا
کیا مجھے بھی تم نے گنگنایا ہوگا
بس یونہی اکثر
ایسے ہی خیال آجاتا ہے
کچھ لکھنے بیٹھوں تو
تم پر بہت کچھ
لکھنے کو من کرتا ہے
پر قلم رک جاتا ہے
پر قلم رک جاتا ہے

Rate it:
Views: 672
01 Aug, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL