مارا گیا ہوں خواہش اپنی کے ہاتھوں
Poet: Kabir Ahmad By: Kabir Ahmad, Faisalabadمارا گیا ہوں خواہش اپنی کے ہاتھوں
ہے دل یہ ویران اپنوں کے ہاتھوں
بھول جاؤں یہ ستم اپنے
ہے بس یہی آرزو دل کے ہاتھوں
سوچ کے وہ منظر ڈرتا ہے دل
ہو جائے نہ یہ خطا اپنے ہاتھوں
اے بادل تو بی برسنا چھوڑ۔ دے
اب تو برستی ہیں آنکھیں اپنوں کے ہاتھوں
ہے یہ صلہ چاہت کا تو گم کیا ہے
یہ تو مّلا ہے اپنوں کے ہاتھوں
مارا گیا ہوں خواہش اپنی کے ہاتھوں
ہے یہ دل ویران اپنوں کے ہاتھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






