میں الجھے دھاگوں جیسی
Poet: سیّدہ افراح By: Syeda Ifrah, Karachiمیں الجھے دھاگوں جیسی
میں بلکل خوابوں جیسی ہوں
تھوڑی کڑوی، تھوڑی میٹھی
ہنستے ہنستے رو دیتی ہوں
میں ان ہنستے روتے نینوں جیسی ہوں
کوئی بات دکھ دے تو
جلاکر اسے راکھ کر دیتی ہوں
ہے الفت مجھے سفید رنگوں سے
سیاہ رنگ کو میں محبوب رکھتی ہوں
میں مزاق بھی بہت کرتی ہوں
لیکن اتنا ہی جتنا میں سہ سکتی ہوں
میں درد کو ہنسی میں اڑا دیتی ہوں
میں بلکل الجھے خیالوں جیسی ہوں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






