مانگی ہے رب سے احسن تعبیر

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston

اپنوں کو اپنوں سے یوں ہم نے روٹھتے دیکھا ہے
خزاں میں جاتی بہار کو چمن سے بچھڑتےدیکھا ہے

با بل سے جڑے رشتوں کو یوں جُدا ہوتے دیکھا ہے
شجر سے جیسے سوکھے پتوں کو گِرتےدیکھا ہے

یاد میں اپنوں کی آنسوں کو یوں بہتے دیکھا ہے
آسماں سے جیسے بارش کو برستے دیکھا ہے

یادوں کی چلمن سے اُس پار صغرِسنی کےآنگن میں
خود کو یوں ہنستے کھیلتے ساتھ اَخی کے دیکھا ہے

ہوک اٹھتی ہے یوں کبھی اپنوں سے دور رہکر
بیتی یادوں کےصحرا میں خود کو بھٹکتےدیکھا ہے

کیا اپنوں کی خفگی اپنوں سے کبھی مٹتی نہيں ؟ مگر
لہروں کو ساحل سے بچھڑ کر پھر گلے ملتے دیکھا ہے

جوش ماریگا کبھی لہو اپنا بھی اِس اُمید پر جی رہےہیں
سوتے جگتے خود کو اپنوں کی محبت میں اسیر دیکھا ہے

اپنی کھلی آنکھوں سے اِک ُسند ر سپنا دیکھا ہے
مانگی ہے رب سے احسن تعبیر خواب جو دیکھا ہے
 

Rate it:
Views: 488
28 Nov, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL