ماں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکمیں تجھے بھول جاؤں نا ممکن
میں ترے گُن نہ گاؤں نا ممکن
ماں تُو نعمت ہے،رب کی رحمت ہے
تیرے قدموں کے نیچے جنّت ہے
زندگی میں نے تجھ سے پائی ہے
تُو ہی دنیا میں مجھ کو لائی ہے
کتنی مشکل سے مجھ کو پالا ہے
شوق پڑھنے کا مجھ کو ڈالا ہے
تیری آغوش تھی میرا اسکول
سیکھا تہزیب کا یہیں سے حصول
ہر بلا سے مجھے رکھا محفوظ
تیری ممتا سے میں ہوئی محفوظ
اعلیٰ تعلیم سے نکھارا مجھے
تیرے صدقے کہ ماں سنوارا مجھے
ماں ہوں پردیس میں تنِ تنہا
بن ترے جی مرا نہیں لگتا
جب بھی مشکل جماتی ہے ڈیرا
کام آتی ہے ماں تری ہی دعا
ماں تجھے میں بھلا نہیں سکتی
قرض تیرا چکا نہیں سکتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






