زندگی بیت گئ رشتے نبھاتے میری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکزندگی بیت گئی رشتے نبھاتے میری
رنج و غم اور خوشی چھپ کے مناتے میری
درد کو اپنے چھپائی ہی رہی دنیا سے
ڈائری بھر گئی بس لکھتے لکھاتے میری
مجھ پہ لگ جائے نہ الزام بغاوت یارو
شامِ غم بیت اشک چھپاتے میری
اب تو رکتھی نہیں میں زخم یہ پرہم اپنے
زندگی رچ گئی مہندی یہ رچاتے میری
رائیگاں جائے نہ یہ کاِ حیاتی وشمہ
رات کٹتی ہے ندی اشک بہاتے میری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






