متفرقات
Poet: UA By: UA, lahoreکچھ تو رنگین ہو جائے میرے جیون کی بے رنگی
جو تیرا ساتھ مل جائے میرے ساتھی میرے سنگی
بہاروں اور نطاروں سے بھری دنیا سے کیا لینا
نگاہوں میں دیدار یار کی جب تک رہے تنگی
تیری یادوں میں گزری شام میری
تیری باتوں سے ہو آغاز سحری
میرے ہاتھوں میں جو مہکتی ہے
حنا کے رنگ میں چاہت ہے تیری
اگرچہ تم کو بارہا دیکھا ہے
نگاہ شوق نے پائی نہ سیری
ہمارے دل کی بھی یہی چاہت ہے
رہے تا عمر دل میں چاہ تیری
سنا دوں گی داستان دل پوری
کوئی بات نہ کروں گی ادھوری
آپ جس دن ملنے آئیں گے
ختم ہو جائے گی مجبوری
بہار آئی ہے یہ پیغام لیکر
اس رت میں ملنا ہے ضروری
آپکا سندیسہ ملا ہے تو
ہوئی دل کی تمنا آج پوری
وہ مجھ سے ملنے آگئے ہیں
ختم ہوئی ہے دل سے دوری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






