ہر بات پہ انکار ضروری نہیں ہوتا
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadہو ہر بات پہ انکار ضروری نہیں ہوتا
آئے ہر شخص پہ پیار ضروری نہیں ہوتا
یہ نئے دور کے لوگ ہیں احتیاط سے ملنا
ہر دوست ہو غمخوار ضروری نہیں ہوتا
سہہ سہہ کے ستم دل ہو جاتے ہیں پتھر
ہر آنکھ ہو اشکبار ضروری نہیں ہوتا
گھر سے نکل پڑیں تو پھر رکا نہیں کرتے
مگر ہر راہ ہو ہموار ضروری نہیں ہوتا
پھانسی کے تختے پہ چڑھا دیتے ہیں لفظ
سر کو کاٹے تلوار ضروری نہیں ہوتا
مدت سے ہو میرے ساتھ کچھ تو مجھے سمجھو
عثمان ہر بات کا اظہار ضروری نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






