مجھ میں جو بس گئی ایسی بھی تشنگی دیکھوں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمجھ میں جو بس گئی ایسی بھی تشنگی دیکھوں
آرزو دل کہ تجھ میں یاد کی ہچکی دیکھوں
میرے فلک پر گھٹائیں بھل چھاتی رہیں
مگر اُسے اِن بہاروں میں ڈھلتی دیکھوں
میرا مقدر میرے ملال کے ساتھ رہ جائے
ایسی بھی حالت ہر کسی سے ٹلتی دیکھوں
یوں سانس مہک جائے اور نیند نہ آئے
اپنی بانہوں میں ہر لوری کو تڑپتی دیکھوں
یہ سبزہ زار بھی تروتازہ ہو ہردم
اِس گلشن کی ہر کلی کھلتی دیکھوں
کون جیتا ہے غرض کے بغیر سنتوشؔ مگر
ملے بھی کہیں وفا تو دنیا بدلتی دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






