میری نظر میں سب متقی کس کس کو بہلائے رکھتا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری نظر میں سب متقی کس کس کو بہلائے رکھتا
آئینہ بھی رہا تیرا بدل میرا درد چھپائے رکھتا
اشک ریزاں جب اپنے ہی نہ رہیں پھر
وہ کون ہے جو آنکھ میں سمائے رکھتا
عمدگی کا عالم اُس سے پہلے کہاں تھا
تُو اِس طرح بھی نہ مجھ کو بھائے رکھتا
وہ سمرنی تھی کہ کچھ دن اور جی لیئے
تجھ بن تو تجرد مجھے کھائے رکھتا
یوں مچلتی جوانی میں رہا امنگوں کا خمار
کس کو کیا مجال کہ ارمان سلائے رکھتا
وہ تیرے فکر میں ذکر خدا بھی بھول گئے
اِس سے بڑہ کر سنتوشؔ کس کو بھلائے رکھتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






