مجھ پہ ٓائی قیامت کی نہ تھی خبر اُسے
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratمجھ پہ ٓائی قیامت کی نہ تھی خبر اُسے
اُ س پہ آیا دُکھ تو وہ سمجھا
بچھڑے سارے ساتھی اُس کے
کوئی ہمدرد نہ پایا تو وہ سمجھا
بہت ہنسا کرتا تھا میری بے بسی پر
خود جو ٹوٹ کے بکھرا تو وہ سمجھا
میرے پاس نہ تھا کچھ بھی یہ جانتا تھا وہ
جب نہ ملا اُسے کوئی سہارا تووہ سمجھا
سحرِشبنم سے میری آنکھوں کے موتی نہ تھے اُسکے لیے کچھ بھی
خود جو کسی کے لیے رویا تووہ سمجھا
درپردہ دیتا رہا فریب میرے خلوص کو
نہ ملا باوفا اُسے جو کوئی مسیحا تو وہ سمجھا
میرا پندار، میری آغوش رہی ،اُداس اُس بن
دامن اپنا جواُس کا بھیگا تووہ سمجھا
اک پاک محبت رہی اُس ہرجائی سے
اور جب مجھ سے بچھڑا تو وہ سمجھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






