مجھے تجھ سے محبت کیسی ہیں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

تیرا پیار ، کیسا ہے
تیرا اتنظار ، کیسا ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیرا حسن جمال کیسا ہے
تیرا نام ، کیسا ہے
تیرا پغام ، کیسا ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیرا اقرار کیسا ہے
تیری خاموشی ، کیسی ہے
تیری سرگوشی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیری دھڑکنوں میں مدہوشی کیسی ہے
تیری آنکھیں ، کیسی ہے
تیری باتیں ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں ادائے کیسی ہے
تیرا غصہ، کیسا ہے
تیری نرمی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں ہمدردی کیسی ہے
تیرا جنون ، کیسا ہے
تیری دیوانگی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں سادگی کیسی ہے
تیری جفاء ، کیسی ہے
تیری خطاء ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں حیاء کیسی ہے
میری الفت ، کیسی ہے
میری چاہیت ، کیسی ہیں
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
مجھے تجھ سے محبت کیسی ہے

Rate it:
Views: 1519
09 Jun, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL