تو میں کر لوں یقین

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabia

تو میں کر لوں یقین
تم میرے سامنے ہو
میرے ساتھ ہو
مجھے دیکھ رہے ہو
جیسے کوئی گلاب ہو
نظریں بھی نہیں ہٹاتے ہو
جیسے اس دنیا سے انجان ہو
تو میں کر لوں یقین
میری دعائیں رنگ لے آئی ہیں
بہت دور سے تمہیں
اپنے سنگ لے آئی ہیں
میرے آنسو خشک ہو گئے
ذرد پتوں پر پھول کھل گئے
میری کسی نیکی کے بدلے
مجھے تم مل گئے
تو میں کر لوں یقین
میرا نام تمہارے نام سے جڑ گیا
یہ دشمن زمانہ دوست بن گیا
جنہوں سے ُجدا کیا تھا
قدرت سے انہیں ہی
ملانے کا موقع دیا
میرا دل مسافر تھا
عشق سمندر میں
جیسے اک چاہنے والا سفینہ مل گیا
تو میں کر لوں یقین
یہ خواب نہیں حقیقت ہے
میری مددت کی
مسافتیوں کی منزل ہے
میری زندگی میں
خوشیوں کی آمد ہے
میرے سجنے سنوارنے کی عمر ہے
ادھوری کہانی کو
مکمل کرنے کی ضرورت ہے
تو میں کر لوں یقین

Rate it:
Views: 585
22 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL