وہ چاند چہرہ حُور ، وہ پَری حسن و جمال تھی
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaوہ چاند چہرہ حُور ، وہ پَری حسن و جمال تھی
ہائے ! وہ حسینہ وہ لڑکی لاجواب بے مثال تھی
گرمیوں کی شام سا تھا نظارہ اُسکے سُرخ رُخسار
موڑوں سے پوچھو ذرا جاکے کیا نوابی چال تھی
ہر کومل شے سخت تھی اُسکی نازکگی کے آگے
اُسکے لبوں کی سرخی سے پنکھڑی گلاب کم لال تھی
بزم میں ہوئے داخل تو چرچہ عام ہوا اُس پہ
ہر کسی کی گفتگو وہ ہر زبان کا سوال تھی
چمک اُسکی جبیں کی دیکھنے کے بعد کہا سب نے
خدا جانے انسان تھی کہ پَری مگر، کمال تھی
کسی مصور کی تھی دلکش تصویر وہ لڑکی
کسی شاعر کی خوبصورت سوچ وہ خیال تھی
خدا نے نوازا جسکو جہان بھر کی خوبصورتی سے
وہ کومل پَری ، ماہ جبین ، جاناں ، جانِ نہالؔ تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






