مجھے زندگی کی دعا دو کہ میں اداس ہوں
مجھے رنگ و بوۓ بہار دو کہ میں اداس ہوں
یہ جو کمال ظرف و جمال ہے اس میں
اسی کا تم وہ جواب دو کہ میں اداس ہوں
یوں تو ہر طرف ہے ستم در ستم چار سو
مجھے لحد میں اتار دو کہ میں اداس ہوں
میری یہ بے بسی اور میرا یہ اضطراب
میں یہ کس طرح بتا ؤں کہ میں اداس ہوں
یہ جزا ہے سزا یا کہ وفا اے او بے خبر
تیرے در پہ دل ہار کر پھر بھی اداس ہوں
مجھے زندگی کی دعا دو کہ میں اداس ہوں
مجھے رنگ و بوۓ بہار دو کہ میں اداس ہوں