مجھے سونے نہیں دیتے تمہاری یاد کے جگنو

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

کبھی جن سے بھری تھیں آرزو کی جھولیاں ہمدم
ابھی تک دل میں جاری ہیں وہی اٹھکیلیاں ہمدم

کہیں وہ دور بادل سے نئی کرنوں نے جھانکا ہے
جبھی گزرا ہے پلکوں پر ابھی تیرا گماں ہمدم

گئے کل کے جھروکوں سے مجھے آواز تو دینا
بڑی مدت ہوئی دیکھا نہیں میں نے جہاں ہمدم

اناؤں کی وہ بازی تھی نہ تو ہاری نہ میں ہارا
مگر اک ہار کا منظر ہے اپنے درمیاں ہمدم

ہوا چھو کر تیری زلفیں گلے سے جن کے ملتی تھی
ابھی تک ان درختوں پر وہی ہیں ٹہنیاں ہمدم

مجھے سونے نہیں دیتے تمہاری یاد کے جگنو
تمہیں بھی چھیڑتی ہونگی خلش کی تتلیاں ہمدم

تمہاری مسکراہٹ پر اساس زندگی رکھ کر
شہر میں ڈھونڈتا پھرتا رہا اپنا نشاں ہمدم

تھکی ناؤ ہے گردابی ہے لیکن دل یہ کہتا ہے
کسی امید پہ اب کھول ڈالوں بادباں ہمدم

اگر بھولے سے آ جاؤ تو کلیاں مسکرا اٹھیں
تمہاری دید کو ترسا ہوا ہے گلستاں ہمدم

Rate it:
Views: 686
15 Nov, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL