مجھے نفرت ہے دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, Chinaمجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے
مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح لکھنے سے
میں تم سے محبت کرتا ہوں
جب تم رُوتی ہو
مجھے اچھی لگتی ہو
میں محبت کرتا ہوں
تمہارے دُھندلائے ہوئے افسردہ چہرے سے
مجھے اچھی لگتی ہو
جب دل گرفتگی تمہیں پگھلا دیتی ہے
مجھے بہتے آنسو اچھے لگتے ہیں
میں پیار کرتا ہوں
آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تمہارے چہرے سے
مجھے اچھی لگتی ہو
اور بہت ہی خوبصورت ہو جاتی ہو
جب تم رُو رہی ہو
تم نے ایسا کیسے سوچ لیا؟
میں نے تمہیں دل سے بُھلا دیا
نہیں جاناں
تمہارا نام آتے ہی
دلِ بے تاب ویسے ہی دھڑکتا ہے
میں اب بھی لفظ لکھتا ہوں
میں ان لفظوں میں جیتا مرتا ہوں
تمیں فرصت ملے تو دیکھو
مری سانسوں میں بسنے والا ہر اک پل
تمہارے ذکر سے خالی نہیں ہوتا
مری جان
مرے پاس کہنے کیلئے بہت کچھ ہے
مگر
مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے
مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح لکھنے سے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






