مجھے نفرت ہے دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے

Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, China

مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے

مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح لکھنے سے

میں تم سے محبت کرتا ہوں
جب تم رُوتی ہو
مجھے اچھی لگتی ہو

میں محبت کرتا ہوں
تمہارے دُھندلائے ہوئے افسردہ چہرے سے

مجھے اچھی لگتی ہو
جب دل گرفتگی تمہیں پگھلا دیتی ہے

مجھے بہتے آنسو اچھے لگتے ہیں
میں پیار کرتا ہوں

آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تمہارے چہرے سے
مجھے اچھی لگتی ہو

اور بہت ہی خوبصورت ہو جاتی ہو
جب تم رُو رہی ہو

تم نے ایسا کیسے سوچ لیا؟
میں نے تمہیں دل سے بُھلا دیا

نہیں جاناں
تمہارا نام آتے ہی
دلِ بے تاب ویسے ہی دھڑکتا ہے

میں اب بھی لفظ لکھتا ہوں
میں ان لفظوں میں جیتا مرتا ہوں

تمیں فرصت ملے تو دیکھو
مری سانسوں میں بسنے والا ہر اک پل

تمہارے ذکر سے خالی نہیں ہوتا
مری جان
مرے پاس کہنے کیلئے بہت کچھ ہے

مگر

مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح محبت کرنے سے

مجھے نفرت ہے
دوسرے لوگوں کی طرح لکھنے سے

Rate it:
Views: 1567
12 Apr, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL