مجھے کتنی محبت ہے مجھے کتنی عقیدت ہے مجھے کتنی ضرورت ہے...!!!
Poet: By: Rania Ch, Lahoreاسے کیسے میں لکھوں گی میں
میں بےبس ہوں
کہاں سے لفظ وہ لاؤں
جو دل کا حال کہہ پائیں
میں ایسے لفظ ڈھونڈوں گی
جنہیں لکھوں تو کاغذ پر دئیے سے جگمگا اٹھیں
جنہیں سوچوں تو ذہن و دل کا ہر گوشہ مہک جائے
جنہیں ہونٹوں پہ لاؤں تو " دُعــا " کے
پھول کھل جائیں
کہیں سے لفظ مل جائیں
دھنک اوڑھے ہوئے
کچھہ لفظ مجھہ کو ڈھونڈنے ہوں گے
کہ جن سے نظم لکھنی ہے
اسے سب کچھہ بتانا ہے
مجھے کتنی محبت ہے مجھے کتنی عقیدت ہے
مجھے کتنی ضرورت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






