چلو اس اک لفظ محبت کو
Poet: Arshiya Rajput By: Arshiya rajput, jhelumچلو اس اک لفظ محبت کو
اک دلکش انداز میں
لوح دل پر نقش کرتے ہیں
اس رستے پر ہم بھی
آنکھیں بند کر کے اندھا دھند چلتے ہیں
وہ جو اس رستے پر صرف پھول ہی
پھول کھلتے ہیں
وہ جہاں پر خزاں ڈھیرہ نہیں سجاتی
جہاں پر پریاں رقص کرتی ہیں
ہم ایسے رستے پر اپنے قدموں کے
نشاں ثبت کرتے ہیں
مگر جاناں
کیا تم مجھے یقین دلاتے ہو
کہ اس رستے پر سدا
پھول ہی کھلتے رہیں گے
خزاں ڈھیرے نہیں ڈالے گی
اگر ہاں
تو یہ یقین
تمہاری آنکھوں میں کیوں
نہیں دکھتا
کہ راہ محبت پر چلنے والوں
کی آنکھیں تو
پیغامِ وفا سرِ عام دیتی ہیں
تو پھر جاناں
تمہاری آنکھیں
مجھے احترامِ محبت سے خالی
کیوں دکھتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






