مجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں

Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkar

مجھے یاد پھر سے وہ آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

گرفتارِ اُلفت ہوں میں قید میں ہوں
وہ پھر سے تصور پہ چھانے لگے ہیں

کبھی جن کی آنکھوں کی تسکین میں تھا
وہی مجھُ سے آنکھیں چرُانے لگے ہیں

میں محرومِ دیدار ہوں مدُتوں سے
وہ میرا جگر آزمانے لگے ہیں

جو مجنوں وہاں سے نکالے گئے تھے
وہ پھر تیری گلیوں میں جانے لگے ہیں

بڑی مشکلوں سے بھلایا تھا جن کو
تصور میں آ کر ستانے لگے ہیں

کبھی جن کے سائے میں جیتے تھے ہم بھی
وہی دستِ شفقت اُٹھانے لگے ہیں

خوشی سے جدُا ہونے کی بات کی تھی
جو بچھڑے تو آنسو بہانے لگے ہیں

سبھی راز آنکھوں نے پل میں بتائے
جو ہم مدُتوں سے چھپانے لگے ہیں

سبھی جام ہاتھوں سے لیتے رہے ہیں
وہ آنکھوں سے مجھ کو پلانے لگے ہیں

وہی جن کی قربت مری زندگی ہے
مجھے چھوڑ کر دُور جانے لگے ہیں

کبھی جن کی دُنیا و عقبیٰ بھی میں تھا
وہی غیر سے دل لگانے لگے ہیں

عتیقؔ اِن دنوں میں وہ پردہ نشیں ہیں
وہ یوں میرا دل آزمانے لگے ہیں

 

Rate it:
Views: 343
07 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL