یاد آتا ہے مجھے چھوڑ کے جانے والا
Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkarیاد آتا ہے مجھے چھوڑ کے جانے والا
میری ہر شام کو ، رنگین بنانے والا
آج رو کر وہ حسیں پلکیں بھگو دیتا ہے
میرے حالات پہ دُنیا کو ہنسانے والا
یہ نہ سوچا تھا کبھی تم بھی بدل سکتے ہو
کیسے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا
مجھ کو محصور کیا یار تری زلفوں نے
ورنہ میں تھا نہ کسی دام میں آنے والا
ہاتھ سے ہاتھ جھٹک کر یہ کہا تھا اس نے
ڈھونڈ لینا کوئی ، سینے سے لگانے والا
جس نے بھی دید لڑائی وُہی بسمل ٹھہرا
سوچ کر آ نکھ لڑا ، آنکھ لڑانے والا
ہاں یہی شخص مری جان ہوا کرتا تھا
اب مجھے دیکھ کے نظروں کو چرُانے والا
میری اِس چشمِ تصور کا مکیں ہے اب تک
وہ جو اِک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
آج جاناں ، ترے دلبر کا دمِ رُخصت ہے
ہائے جی سکتا ہے کیا تجھ کو گنوانے والا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






