یاد آتا ہے مجھے چھوڑ کے جانے والا

Poet: عتیق مہدی By: عتیق مہدی, Bhakkar

یاد آتا ہے مجھے چھوڑ کے جانے والا
میری ہر شام کو ، رنگین بنانے والا

آج رو کر وہ حسیں پلکیں بھگو دیتا ہے
میرے حالات پہ دُنیا کو ہنسانے والا

یہ نہ سوچا تھا کبھی تم بھی بدل سکتے ہو
کیسے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا

مجھ کو محصور کیا یار تری زلفوں نے
ورنہ میں تھا نہ کسی دام میں آنے والا

ہاتھ سے ہاتھ جھٹک کر یہ کہا تھا اس نے
ڈھونڈ لینا کوئی ، سینے سے لگانے والا

جس نے بھی دید لڑائی وُہی بسمل ٹھہرا
سوچ کر آ نکھ لڑا ، آنکھ لڑانے والا

ہاں یہی شخص مری جان ہوا کرتا تھا
اب مجھے دیکھ کے نظروں کو چرُانے والا

میری اِس چشمِ تصور کا مکیں ہے اب تک
وہ جو اِک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

آج جاناں ، ترے دلبر کا دمِ رُخصت ہے
ہائے جی سکتا ہے کیا تجھ کو گنوانے والا
 

Rate it:
Views: 1484
07 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL