محبت امتحاں جاناں

Poet: انعم نقوی By: Anum Naqvi, jhelum

محبت جیت هوتی هے کبھی یہ مات هوتی هے
کبهی یہ واسطے روح کے حسیں سوغات هوتی هے

کبهی سرشار کرتی هے کبهی بےحال کرتی هے
سنو جاناں محبت تو یوں ہی کمال کرتی هے

بسیرا روح پہ اسکا هے قلب پہ دسترس اسکی
نگاهوں سے کرے گهائل طلب پہ دسترس اسکی

خموشی هے زباں اسکی مگر یہ بات کرتی هے
اشاروں سے مرے ہمدم حسیں لمحات کرتی ہے

فسوں سے بھی جنوں سے بھی محبت گھات کرتی ہے
کبهی سنگدل بنا ڈالے کبھی یہ توڑ دیتی ہے

کبھی جذبوں کی طاقت سے دلوں کو جوڑ دیتی ہے
کبھی چپ چاپ رستوں سے یہ واپس لوٹ جاتی ہے

تو پهر انسان کو تحفہ محبت کا نہیں دیتی
کبھی تنهائی دیتی هے مگر مرہم نہیں دیتی

کبھی رسوائی دیتی ہے مگر مرہم نہیں دیتی
محبت کے عجب رازوں سے ظاہر یہ حقیقت ہے

ازل سے ہی محبت کی ادھوری داستاں جاناں
محبت امتحاں جاناں
محبت امتحاں جاناں

Rate it:
Views: 693
10 Jul, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL