محبت امر بیل ہی تو ہے

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachi

جب تم میرے پاس ہوتے ہو تو
وقت تھم سا جاتا ہے
میںمیں نہیں رہتی میں تم بن جاتی ہوں
تمہارے رنگ میں رنگ جاتی ہوں
کیسی انا کیسی زد
مگر محبت میں بھی ایک پاکیزگی برقرار رہتی ہے
شرم و حیا درمیاں حائل رہتی ہے
کھل کر بھی تم پر کھلتی نہیں
درمیاں سے خاموشی مگر جاتی نہیں
صرف تمہیں سنے کی چاہ میں لب سی لیتی ہوں
مگر تم بھی تو خاموش ہو جاتے ہو
کچھ کہتے نہیں
اداسیت آنکھوں سے جھلکتی ہے
زبان چپ رہتی ہے
ساتھ ہوکر بھی ساتھ نہیں
پھر بھی دلی تمنا ہے کہ
یہ سفر ختم نہ ہو
کیونکہ دل سنتا ہے
دل کی زباں
جسے لفظوں میں بیان کرنے کی
نہ تمہیں ضرورت ہے نہ مجھے
محبت امر بیل کی بن کر
میری سانسوں سے لپٹی جارہی
مجھے اندر سے مار رہی ہے
دیمک کی طرح چاٹ رہی
ہاں تمہاری محبت مجھے مار رہی ہے
مجھے ختم کر رہی ہے ۔۔۔

Rate it:
Views: 795
22 Nov, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL