محبت بھی ضروری ہے

Poet: Hasan Abidi By: Gul Bose, Karachi

حسیں چہرے کسے اچھے نہیں لگتے
سو ہم بھی دیکھ لیتے ہیں
مہکتے مسکراتے ناز پروردہ حسینوں کو
جنہیں قدرت بناتی ہے، کسی برفاب ساعت میں
مگر شعلے کی لو بھی رکھتی جاتی ہے،
لب و رخسار و قامت میں
سو ہم بھی دیکھ لیتے ہیں
غزل گو یوں کے حلقے میں
کسی بزم تماشا میں
کسی شاز و سخن کے آستانے پر
عجائب گھر کے اندر یا کتب خانے کے زینے پر
کتابوں کی نمائش میں
پسِ محفل ، سرِرا ہے
وہ ان کا اک تعلق کی نظر سے دیکھ لینا
سر جھکا کا کر مسکرا دینا، ہمیں بھی اچھا لگتا ہے
پھر اس کے بعد دن بھر پا پیادہ چلتے رہنا
کس قدر آسان ہوتا ہے
ہمارے ساتھ بھی کتنے چھمیلے ہیں
جو اب تک ہم نے جھیلے ہیں
ہزاروں کام ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتے
مگر اے عمر ِ لا حاصل
میرے جینے کو تھوڑی سی جو ساعت رہ گئی ہے
گزر اوقات کی خاطر، یہ ساعت بھی ضروری ہے
ادھورے کام رہنے دے
محبت بھی ضروری ہے

Rate it:
Views: 536
14 Feb, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL