محبت بھی ضروری ہے
Poet: Hasan Abidi By: Gul Bose, Karachiحسیں چہرے کسے اچھے نہیں لگتے
سو ہم بھی دیکھ لیتے ہیں
مہکتے مسکراتے ناز پروردہ حسینوں کو
جنہیں قدرت بناتی ہے، کسی برفاب ساعت میں
مگر شعلے کی لو بھی رکھتی جاتی ہے،
لب و رخسار و قامت میں
سو ہم بھی دیکھ لیتے ہیں
غزل گو یوں کے حلقے میں
کسی بزم تماشا میں
کسی شاز و سخن کے آستانے پر
عجائب گھر کے اندر یا کتب خانے کے زینے پر
کتابوں کی نمائش میں
پسِ محفل ، سرِرا ہے
وہ ان کا اک تعلق کی نظر سے دیکھ لینا
سر جھکا کا کر مسکرا دینا، ہمیں بھی اچھا لگتا ہے
پھر اس کے بعد دن بھر پا پیادہ چلتے رہنا
کس قدر آسان ہوتا ہے
ہمارے ساتھ بھی کتنے چھمیلے ہیں
جو اب تک ہم نے جھیلے ہیں
ہزاروں کام ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتے
مگر اے عمر ِ لا حاصل
میرے جینے کو تھوڑی سی جو ساعت رہ گئی ہے
گزر اوقات کی خاطر، یہ ساعت بھی ضروری ہے
ادھورے کام رہنے دے
محبت بھی ضروری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






