محبت تم سے ہے
Poet: Touseef Ali By: Touseef Ali Khan, Lahore محبت تم سے ہے
شکایت تم سے ہے
تمہاری ضرورت ہوں میں
میری ضرورت تم سے ہے
ہو خزاں کا موسم، کہ رت ہو بہار کی
ہر گھڑی تیرے خیال سے ، ہر رت تیرے انتظار کی
محبت تم سے ہے
عداوت تم سے ہے
تیرے شہر کی اُڑتی دھول ہوں میں
تو کہہ بھی دے، تجھے قبول ہوں میں
محبت تم سے ہے
یہ کیوں بار بار کہوں میں
ہوں جدائی کا غم کیوں تنہا سہوں میں
محبت تم سے ہے
پر اس لیئے جاناں
یوں تنہا تنہا دیکھا نہیں جاتا
یوں خود سے الگ تم کو دیکھا نہیں جاتا
محبت تم سے ہے
یہ اب کہ بار پھر نہیں کہنا
یہ اب کہ بار پھر نہیں کہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






