بیقراری میری اور ہو بہانہ تیرا

Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usa

بیقراری میری اور ہو بہانہ تیرا
زبان میری اور ہو افسانہ تیرا

عبادت کا مزا آئے گا تب یارا
جبیں میری اور ہو آستانہ تیرا

آج میں نے کی آسماں سے گزارش
کرن میری اور ہو ڈھکانہ تیرا

نشہ آجائے گا مہ اور محفل کا بہت خوب
جوانی میری اور ہو زمانہ تیرا

تمنا میری کاش کوئی پوری کر دے
صراحی میری اور ہو مہ خانہ تیرا

نرالی نرالی پھر جب دیکھانا ادائیں
شمع میری اور ہو پروانہ تیرا

ناحق چھڑکے پھر تب مجھے دیکھنا
رات میری اور ہو مسکرانا تیرا

عدالت بنا دے کوئی ایسی ولله
خطا میری اور ہو ہرجانہ تیرا

فائدہ جب بہار کا ہو تیری
شاخ میری اور ہو چہچہانا تیرا

لفظ ہوں روح کو سراب کر دیں
غزال میری اور ہو گنگانا تیرا

کوئی ایسا رازدار آ بیٹھے
تسلی میری اور ہو گبھرانا تیرا

اس ناچیز بندے کی حسرت بھی کیا ہے
کہانی میری اور ہو سنانا تیرا

الٹی ہو جائے بات ہر تیری پھر مزا آئے
نظر میری اور ہو آشیانہ تیرا

کاش اک قلزم ایسا بھی آئے
مسکراہٹ میری اور ہو ہچکچانا تیرا

Rate it:
Views: 435
10 Jul, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL