محبت خوش اخلاق ہوتی ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

محبت خوش اخلاق ہوتی ہے
محبت بے لوث ہوتی ہے
محبت انجان ہوتی ہے
محبت ہر شکایت سے پاک ہوتی ہے
محبت آنسوؤں کا جام ہوتی ہے
محبت دل کا احساس ہوتی ہے
محبت تنہایوں کا ساتھ ہوتی ہے
محبت روح کا قرار ہوتی ہے
محبت لبوں کی مسکان ہوتی ہے
محبت آنکھوں کی حیاء ہوتی ہے
محبت انکہیں جذبوں کا عنواں ہوتی ہے
محبت دور رہ کر بھی پاس ہوتی ہے
محبت زندگی ہوتی ہے
محبت بندگی ہوتی ہے
محبت ہر غم کی دوا ہوتی ہے
محبت خود میں ایک انا ہوتی ہے
محبت پانی کی طرح صاف ہوتی ہے
کوئی سمجھے اگر تو
محبت بہت خاص ہوتی ہے
محبت دو روحوں کا ملاپ ہوتی ہے
محبت دھول ہوتی ہے
اگر کسی کے دل میں جم جایئں تو
محبت پہاڑ ہوتی ہے
محبت جام ہوتی ہے
محبت آنکھوں سے بیاں ہوتی ہے
محبت ہار کے بھی جیت ہوتی ہے
محبت دل میں چھپا اک دیپ ہوتی ہے

Rate it:
Views: 475
27 Nov, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL