محبت خون بن کر دوڑتی ہے
Poet: NADIA TARIQ By: NADIA TARIQ, LAHOREمیری آنکھوں میں سینے میں، میرے رخسارو بدن میں
محبت خون بن کر دوڑتی ہے ، سارے بدن میں
میری سانسوں میں مہکتے ہیں، تیری یاد کے غنچے
تیرے اَحساس کی خوشبو ، میری مٹی میں، کفن میں
تیرے جلووں سے سجے ہیں، میرے اَدراک کے موسم
تیری چاہت کی فصل گل ، میری ہستی کے چمن میں
نہ ہی شہرت و امارت، نہ ہی فردوس و قیامت
ہاں تیرے عشق کے سوتے ہیں، میرے قلب و ذہن میں
میرے خالق سے چاہت کا بہت ،انمول رشتہ ہے
جہ نہ ماں باپ میں دیکھا، نہ بھائی میں،نہ بہن میں
تیری وحدانیت کی ٠ہو٠ میرے ہر ایک ذرے میں
میری خلوت میں جلوت میں، میرے کردار و سخن میں
میرے دل کی ہر اک دھڑکن ، صدا دیتی ہے ٠اللہ ہو٠
تیری تقدیس کے نغمے، صدا گونجے ،میرے من میں
تیری رحمت تڑپ اٹھی ،جو میں نے آسرا مانگا
کبھی لمحوں کی کسک میں، کبھی صدیوں کی تھکن میں
الہی چاک کر دے اب، میری غفلت کے پردے کو
اجالا نور کا کر دے، میرے ایماں کے گہن میں
خدایا سرخرو کرنا مجھے ، تو آزمائش میں
رہے ایمان سلامت میرے یس سوختہ تن میں
نہ مانگوں عمر کی نقدی، نہ طالب ہوں مین دنیا کی
خدایا برکتیں دینا ،تو میرے عشق کے دھن میں
ہر اک جانب ہے غل برپا، لہو کے بہ گئے دریا
الہی امن کر دے اب تہ میرے ، پاک وطن میں
الہی آبرو رکھنا میرے لفظوں کی حرمت کی
تیری رحمت کے سب دریا، رہیں شامل میرے فن میں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






