محبت زندگی کرلیں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadتم جو کہتی ہو
مجھے تم سے محبت ہے
پھر سے یہ کیسی میری جاں
تمھیں مجھ سے شکایت ہے
میرے لفظوں، میری باتوں میں
میرے لہجے کی حرارت میں
میری آنکھوں کی شرارت میں
میرے جذبوں کی ترجمانی ہے
میرے چہرے پہ جو خوشیوں کے
پھول کھلتے ہیں
میرے دل میں اُلفت کے
جو دیپ جلتے ہیں
کیوں تم بے خبر ہو
کس بات کی منتظر ہو
تمھیں تو معلوم ہی ہے ناں
میری جاناں
میرے دن میری راتیں
بنا تیرے نہیں کٹتیں
اور بھلا کٹ بھی پائیں گی؟
گر تم بھی نہ سمجھو
میری باتوں میرے جذبوں کو
بتاو کس کو پھر میںدوشی ٹھہراؤں
تم ہی جو نہ سُن پاؤ
تو کس کو جا کے بتلاؤں
میرے احوال کیسے ہیں
کس کو جا کے دکھلؤوں
خدارا اب تو نہ روٹھو
کہیں میں ٹوٹ نہ جاؤں
کہ تم سے روٹھ نہ جاؤں
سنبھالو خود کو بھی
اور مجھ کو بھی سہارا دو
تیری تتلی تیرے جُگنو
میں تم کو لوٹا دوں
میری خوشیاں میری راحت
تم مجھ کو لوٹا دو
آؤ پھر دوستی کر لیں
محبت زندگی کر لیں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






