محبت زندگی کرلیں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadتم جو کہتی ہو
مجھے تم سے محبت ہے
پھر سے یہ کیسی میری جاں
تمھیں مجھ سے شکایت ہے
میرے لفظوں، میری باتوں میں
میرے لہجے کی حرارت میں
میری آنکھوں کی شرارت میں
میرے جذبوں کی ترجمانی ہے
میرے چہرے پہ جو خوشیوں کے
پھول کھلتے ہیں
میرے دل میں اُلفت کے
جو دیپ جلتے ہیں
کیوں تم بے خبر ہو
کس بات کی منتظر ہو
تمھیں تو معلوم ہی ہے ناں
میری جاناں
میرے دن میری راتیں
بنا تیرے نہیں کٹتیں
اور بھلا کٹ بھی پائیں گی؟
گر تم بھی نہ سمجھو
میری باتوں میرے جذبوں کو
بتاو کس کو پھر میںدوشی ٹھہراؤں
تم ہی جو نہ سُن پاؤ
تو کس کو جا کے بتلاؤں
میرے احوال کیسے ہیں
کس کو جا کے دکھلؤوں
خدارا اب تو نہ روٹھو
کہیں میں ٹوٹ نہ جاؤں
کہ تم سے روٹھ نہ جاؤں
سنبھالو خود کو بھی
اور مجھ کو بھی سہارا دو
تیری تتلی تیرے جُگنو
میں تم کو لوٹا دوں
میری خوشیاں میری راحت
تم مجھ کو لوٹا دو
آؤ پھر دوستی کر لیں
محبت زندگی کر لیں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






